ہندوستان

جن گن من سے پہلے بجے گا وندے ماترم: 3 منٹ 10 سیکنڈ کے گیت کے دوران کھڑا ہونا ضروری؛ مرکزی حکومت کا ایک اور متنازعہ فیصلہ

نئی دہلی۔ 11/ فبروری۔ (اردو لائیو): مرکزی حکومت نے متنازعہ گیت ”وندے ماترم“ کے حوالے سے نئی ہدایات جاری کی ہیں۔ وزارتِ داخلہ کے حکم کے مطابق اب سرکاری تقریبات، سرکاری اسکولوں کے پروگراموں اور دیگر رسمی تقاریب میں ”وندے ماترم“ بجایا جائے گا۔ اس دوران اس کے احترام میں ہر شخص کا کھڑا ہونا لازمی ہوگا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اگر وندے ماترم اور قومی ترانہ ایک ساتھ گایا یا بجایا جائے تو پہلے ”وندے ماترم“ بجے گا۔ اس وقت گانے یا سننے والوں کو باادب انداز میں سیدھا کھڑا رہنا ہوگا، تاکہ احترام اور قومی جذبے کا واضح پیغام دیا جا سکے۔

نئے قواعد کے مطابق اب ”وندے ماترم“ کا مکمل ورژن بجایا جائے گا، جس میں متنازعہ چھ بند شامل ہیں اور اس کی مدت 3 منٹ اور 10 سیکنڈ ہوگی۔ اس میں درگا سمیت تین ہندو دیویوں کا ذکر ہے۔ اب تک اس کے اصل چھ بندوں میں سے صرف پہلے دو بند ہی گائے جاتے تھے۔

ترنگا لہرانے کی تقریبات، پروگراموں میں صدرِ جمہوریہ کی آمد، قوم سے ان کے خطابات سے پہلے اور بعد میں، اسی طرح گورنروں کی آمد اور تقاریر سے پہلے اور بعد میں بھی کئی سرکاری مواقع پر ”وندے ماترم“ بجانا لازمی قرار دیا گیا ہے۔

سنیما ہال میں لاگو نہیں ہوں گے نئے اصول

میڈیا رپورٹس کے مطابق مرکز نے 28 جنوری کو یہ گائیڈ لائن جاری کی تھی۔ 10 صفحات پر مشتمل حکم نامے میں حکومت نے کہا ہے کہ سویلین اعزازات کی تقریبات، جیسے پدم ایوارڈ تقریب یا ایسے کسی بھی پروگرام میں جہاں صدرِ جمہوریہ موجود ہوں، وہاں بھی ”وندے ماترم“ بجایا جائے گا۔

تاہم سنیما ہالز کو ان نئے قواعد سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔ یعنی سینما گھروں میں فلم شروع ہونے سے پہلے ”وندے ماترم“ بجانا اور کھڑا ہونا لازمی نہیں ہوگا۔ حکام کے مطابق یہ نئی ہدایات ”وندے ماترم“ کے احترام کے لیے واضح رہنمائی فراہم کرنے کے مقصد سے جاری کی گئی ہیں۔

سرمائی اجلاس کے دوران ہوا تھا تنازعہ

گزشتہ سال ”وندے ماترم“ اس وقت تنازعہ کا سبب بن گیا تھا جب مسلم تنظیموں نے وندے ماترم گیت کے پڑھنے کی مخالفت کی تھی۔ پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس کے دوران بھی اس معاملے پر زبردست ہنگامہ ہوا تھا۔

بی جے پی نے کانگریس پر الزام لگایا تھا کہ اس نے خوشامدی سیاست کے تحت ”وندے ماترم“ کے حصے حذف کیے۔ بی جے پی نے 1937 میں ملک کے پہلے وزیر اعظم جواہر لال نہرو کی ایک چٹھی بھی شیئر کی تھی، جو انہوں نے سبھاش چندر بوس کو لکھی تھی۔

بی جے پی کا دعویٰ تھا کہ اس خط میں نہرو نے اشارہ دیا تھا کہ ”وندے ماترم“ کی کچھ سطریں مسلمانوں کو ناگوار محسوس ہو سکتی ہیں۔ پارلیمنٹ میں بحث کے دوران بی جے پی کے سابق صدر جے پی نڈا نے کہا تھا کہ قومی گیت کو بھی قومی ترانے اور قومی پرچم کے برابر درجہ دیا جانا چاہیے۔

دوسری جانب کانگریس نے مؤقف اختیار کیا کہ قومی گیت پر اس زور کا مقصد مغربی بنگال میں ہونے والے آئندہ انتخابات کو مدنظر رکھنا ہے۔

8 دسمبر 2025: وزیر اعظم نے کہا تھا کہ کانگریس نے وندے ماترم کے ٹکڑے کیے

وزیر اعظم نریندر مودی نے لوک سبھا میں ”وندے ماترم“ پر ایک گھنٹے کی تقریر بھی کی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ کانگریس نے مسلم لیگ کے آگے گھٹنے ٹیک دیے اور ”وندے ماترم“ کو ٹکڑوں میں بانٹ دیا۔ نہرو کو لگتا تھا کہ اس سے مسلمانوں کو تکلیف پہنچ سکتی ہے۔

وزیر اعظم نے سوال اٹھایا کہ ”وندے ماترم“ کے ساتھ بے وفائی کیوں کی گئی؟ وہ کون سی طاقت تھی جس کی خواہش باپو کے جذبات پر بھی غالب آ گئی؟ انہوں نے اپنی ایک گھنٹے کی تقریر میں 121 مرتبہ ”وندے ماترم“ کا ذکر کیا تھا۔

وندے ماترم کے چار بند کیوں ہٹائے گئے تھے؟

سویسچی بھٹاچاریہ کی کتاب‘وندے ماترم: دی بایوگرافی آف اے سانگ’کے مطابق، 20 اکتوبر 1937 کو سبھاش چندر بوس کو لکھے گئے خط میں نہرو نے کہا تھا کہ ”وندے ماترم“ کا پس منظر اور زبان مسلمانوں کو ناگوار گزرتی ہے اور اس کی زبان اتنی مشکل ہے کہ لغت کے بغیر سمجھنا دشوار ہے۔

اس وقت ”وندے ماترم“ کے حوالے سے ملک میں فرقہ وارانہ کشیدگی بڑھ رہی تھی۔ جواہر لال نہرو کو یہ تنازعہ ایک منظم سازش کا حصہ محسوس ہوتا تھا۔ اسی مسئلے پر انہوں نے رابندر ناتھ ٹیگور سے مشورہ لینے کا بھی ذکر کیا تھا۔

22 اکتوبر 1937 کو کانگریس ورکنگ کمیٹی نے اصل گیت کے چھ بندوں میں سے چار بند ہٹانے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس اجلاس میں مہاتما گاندھی، جواہر لال نہرو، سردار پٹیل، سبھاش چندر بوس، راجندر پرساد، مولانا ابوالکلام آزاد اور سروجنی نائیڈو سمیت کئی سینئر رہنما موجود تھے۔

Related Articles

Back to top button