ہندوستان

کھانے میں مرچیں نہ دینے پر فوجی جوان کی ساتھی فوجیوں پر فائرنگ۔ 2 ہلاک ’ 2زخمی۔ چھتیس گڑھ میں پیش آیا واقعہ

بلرام پور’ چھتیس گڑھ ۔ 18؍ ستمبر ۔ (اردو لائیو): چھتیس گڑھ میں (چہارشنبہ ) کے روز مسلح فورس (سی اے ایف) کے ایک فوجی نے اپنی سرویس رائفل سے اس وقت گولی چلا دی جب اسے کھانے کے دوران مرچیں نہیں دی گئیں۔ ایک فوجی جوان کی گولی لگنے سے اور دوسرے فوجی کی صدمہ کی وجہہ سے موت واقع ہوگئی۔ فائرنگ کی وجہہ سے دو فوجی زخمی ہوگئے۔ ان میں سے ایک کی دونوں ٹانگوں میں گولیاں لگی ہیں۔
دونوں کو کسمی کمیونٹی ہیلتھ سنٹر میں داخل کرایا گیا ہے۔ معاملہ بلرام پور ضلع کے سماری تھانہ علاقے میں بھوٹاہی کیمپ کا ہے۔ گولی چلانے والے سپاہی کا نام اجے سدر ہے۔ وہ سی اے ایف کی 11ویں بٹالین میں تعینات ہے۔ ملزم نے جس رائفل سے فائرنگ کی وہ کسی اور فوجی کی تھی۔
ابتدائی تفتیش سے پتہ چلا ہے کہ اجے سدر کھانا کھانے بیٹھا تھا۔ اس نے کھانا پیش کرنے والے سپاہی روپیش پٹیل سے مرچیں مانگیں۔ روپیش اور اجے کے درمیان اس جھگڑا اس وقت شروع ہوا جب روپیش نے مرچیں دینے سے انکار کر دیا۔ اس دوران وہاں موجود گارڈ کمانڈر امبوج شکلا نے روپیش پٹیل کی حمایت کی اور بحث مزید بڑھ گئی۔
غصہ میں اجے سدر کھانا چھوڑ کر اٹھا اور روپیش پٹیل پر اپنی انساس رائفل سے گولی چلا دی جس سے وہ موقع پر ہی ہلاک ہو گیا۔ اجے نے امبوج شکلا کے پاؤں پر بھی گولی چلائی۔ اس دوران وہاں موجود جوان راہول بگھیل نے اجے سدر کو پکڑ کر قابو کر لیا۔
امبوج شکلا کو کسمی کمیونٹی ہیلتھ سنٹر میں ابتدائی طبی امداد کے بعد امبیکاپور میڈیکل کالج ہسپتال ریفر کر دیا گیا ہے۔
ایک اور زخمی فوجی سندیپ پانڈے کو کسمی ہیلتھ سنٹر لایا جارہا تھاکہ اس نے راستہ میں ہی دم توڑ دیا۔
کسمی کمیونٹی ہیلتھ سنٹر کے بی ایم او ڈاکٹر ستیش پیکرا کے مطابق متوفی سپاہی سندیپ پانڈے کے جسم پر گولی کا کوئی نشان نہیں ملا۔ جب اسے ہسپتال لایا جا رہا تھا تو اس کی ناک سے خون بہہ رہا تھا۔ شبہ ہے کہ اس کا بلڈ پریشر بڑھ گیا تھا جس سے دل کی ہارٹ اٹیک یا برین ہیمرج ہوا۔
مزید تحقیقات سے پتہ چلا کہ سی اے ایف کے جوان اجے سدر نے کچھ دن پہلے اپنے ایک ساتھی جوان پر بندوق تانی تھی۔ کیمپ انچارج سے شکایت کی گئی تو اس نے بندوق جمع کرادی۔ اجے سدر کو اپنی بندوق دوبارہ جاری نہیں کی گئی۔ چہارشنبہ کو جھگڑے کے بعد جوان نے جس انساس رائفل سے گولی چلائی وہ دوسرے جوان کی تھی۔ جس سے اجے سدر نے کئی راؤنڈ فائر کیے ہیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button