ٹرمپ پر فائرنگ: نئی معلومات منظر عام پر ۔ حملہ آور کو اسکول میں ‘‘اسٹار ایوارڈ’’ ملا تھا

ہم جماعتوں کا کہنا ہے کہ وہ خاموش اور الگ تھلگ رہتا تھا، اسے اسکول کے ساتھی ہراساں کرتے تھے
واشنگٹن۔ 15 ؍جولائی۔ سابق امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی ریلی میں فائرنگ کرنے والے مشتبہ ملزم کو سیکرٹ سروس کے سنائپرس نے موقع پر ہی ہلاک کردیا تھا۔ اسکی پہچان 20 سالہ تھا مس میتھیو کروکس کے طور پر ہوئی ہے۔وہ ستمبر 2003 میں پیدا ہوا تھا۔
تھا مس نے اس حملہ کو انجام کیوں دیا اسے لیکر سیکوریٹی ایجنسیوں کو کوئی جواب نہیں ملا ہے۔ حالانکہ،بیتھل پارک ہائی سکول کے اسکے پرانے ہم جماعتوں سے اسکے بارے میں کئی باتیں پتہ چلی ہیں۔
تھا مس 2022 میں اس اسکول سے گریجو ایٹ ہوا تھا۔ اسے نیشنل میتھ اینڈ سائنس انیشیٹیو سے 40 ہزار کا ‘‘اسٹار ایوارڈ’’ملا تھا۔ اسکول کے پرانے ساتھیوں نے اسے خاموش اور الگ تھلگ رہنے والا شخص بتایا ہے۔ یہ بھی کہاہے کہ اسے اسکول میں ہراساں کیا جاتا تھا۔
کروکس کو کبھی ٹرمپ یا سیاست پر بحث کرتے نہیں دیکھا گیا
ایک خبر رساں ادارہ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پرانے ہم جماعتوں کے مطابق کروکس ایک خاموش طالب علم تھا، جو اکثر اکیلا نظر آتا تھا۔ اسے کبھی ٹرمپ یا سیاست کے بارے میں بحث کرتے ہوئے نہیں دیکھا گیا۔
اسی اسکول سے گریجویٹ جیسن کوہلر نے بتایا کہ تھا مس کو اکثر چڑھایا جاتا تھا۔ وہ خاموش رہتا تھا، لیکن لوگ اسے بہت پریشان کیا کرتے تھے۔ وہ کئی بار شکار کے دوران پہننے والے کپڑے پہن آتا تھا، جسکے وجہہ سے دوسرے بچے اسکے پنہاوے کا مذاق اڑاتے تھے۔
ایک ویڈیو میں حملہ آور نے کہا میں ٹرمپ سے نفرت کرتا ہوں
کروکس کا ایک ویڈیو سامنے آیا ہے جسمیں وہ کہہ رہا ہے میں رپبلکن سے نفرت کرتا ہوں۔ میں ٹرمپ سے نفرت کرتا ہوں۔ نفرت۔۔۔ نفرت۔۔۔ کیونکہ وہ غلط شخص ہیں۔
ایف بی آئی نے کہا ہے کہ ہم تھا مس کے موبائل فون کا جائزہ لینے کی کوشش کر رہے ہیں، تاکہ اسکے منصوبہ کا علم ہوسکے۔ حالانکہ، ایجنسی نے کہا ہے کہ تھا مس ایف بی آئی کی تفتیش کے دائرے میں نہیں تھا اور اسکا کوئی مجرمامہ پس منظر بھی نہیں ہے۔
اسکی آن لائن ہسٹری میں بھی کوئی مشکوک بتیں نہیں ملی۔ وہ آن لائن شطرنج اور ویڈیو گیمس کھیلتا تھا اور کوڈنگ سیکھتا تھا۔
حملے کے بعد تفتیش کاروں نے کروکس کے گھر اور کار کی تلاشی لی۔ کروکس کی کار سے انہیں مشکوک ڈیوائس ملی۔ اس دھماکہ خیز ڈیوائس کو ثبوت کے طور پر رکھ لیا گیا ہے۔
کروکس نے اپنے والد کی خریدی بندوق سے کیا تھا حملہ
ایف بی آئی کے اسپیشل ایجنٹ کیون روزیک کے مطابق کروکس نے جس اے آر۔اسٹائل رائفل سے ٹرمپ پر گولی چلائی تھی، اسکے والد نے اسے قانونی طور پر خریدا تھا۔ حالانکہ، اب تک یہ صاف نہیں ہوا ہے کہ شوٹر کو رائفل کیسے ملی۔ روزیک نے یہ بھی بتایا کہ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ کروکس ایک نفسیاتی مریض تھا۔
شوٹر کا نظریہ ابھی تک واضح نہیں ہوا
ایف بی آئی نے بتایا کہ وہ اس واقعہ کی تحقیقات ایک مہلک حملہ اور ممکنہ دہشت گردی کی کارروائی کے طور پر کر رہے ہیں۔ فائرنگ کرنے والے نے اکیلے ہی اس واردات کو انجام دیا ہے۔ ملزم کا نظریہ ابھی تک واضح نہیں ہوا ہے۔ نہ ہی یہ پتہ چلا ہے کہ سیاستی طور پر اسکا کس طرف جھکاؤ تھا۔
وہیں پنٹاگون کے ترجمان میجر جنرل پیٹ رایڈر نے بتایا کہ کروکس کا ملٹری سے کوئی تعلق سامنے نہیں آیا ہے۔ نیوز رپورٹس کے مطابق وہ رپبلکن پارٹی سے جڑا تھا، لیکن کچھ عرصہ پہلے اس نے ڈیموکریٹک پارٹی کے نظریہ والی پروگریسو پالٹکل ایکشن کمیٹی کو بھی چندہ دیا تھا۔
کروکس نے ٹرمپ کی ریلی میں فائرنگ کی تھی، جسکے بعد سیکریٹ سروس کے سنائپرس نے اسے مار گرایا۔
ملزم کا سوشل میڈیا اکاؤنٹ ملا، لیکن اسکا استعمال نہیں کیا گیا
سوشل میڈیا پلٹ فارم ڈسکارڈ نے بتایا کہ انہوں نے ملزم سے جڑے ایک اکاؤنٹ کی شناخت کی ہے، حالانکہ اس اکاؤنٹ کا زیادہ استعمال نہیں کیا گیا۔



