ہندوستان

بھوپال کے گرلز اسکول میں طالبات سے بدسلوکی۔ احتجاج میں 15 طالبات بے ہوش ہوگئیں

بھوپال ۔ 4؍ ستمبر ۔ (اردو لائیو): مدھیہ پردیش کے دارالحکومت بھوپال کے سروجنی نائیڈو گرلز اسکول (نوتن اسکول) کی طالبات نے بدھ کو احتجاج کیا۔ اسکول انتظامیہ کے خلاف نعرے بازی اور توڑپھوڑ بھی کی۔ اس دوران 15 طالبات بے ہوش ہو گئیں۔
طالبات کا الزام ہے، دیر سے آنے پر اسکول کی ایچ آر منیجر ورشا جھا ان سے صفائی کرواتی ہیں، گھانس کٹواتی ہیں۔ اس موقع پر محکمہ تعلیم کے آفیسر اور کانگریس رکن اسمبلی عارف مسعود بھی پہنچ گئے۔ ہنگامہ بڑھتا دیکھ کر ایچ آر منیجر ورشا جھا کو اسکول سے ہٹا دیا گیا۔

ایچ آر منیجر آرمی سے ریٹائرڈ کیپٹن ہیں
ورشا جھا آرمی سے ریٹائرڈ کیپٹن ہیں۔ اوپن اسکول کی طرف سے انہیں ایک ماہ پہلے ہی ایچ آر اینڈ اسٹیٹ منیجر مقرر کیا گیا تھا۔ احتجاج کے دوران ناراض طالبات نے جھا کی نام پلیٹ کو توڑ کر پیروں تلے روند دیا۔ طالبات کا کہنا ہے کہ وہ اسکول میں آرمی کے قوانین پر عمل کروانا چاہتی ہیں’ ویسی ہی سزا دیتی ہیں۔
اسکول کی پرنسپل مالینی ورما کا کہنا ہے کہ طالبات کی ناراضگی ورشا سے ہے نہ کہ دوسرے ٹیچرز سے۔ سمجھانے کے بعد طالبات نے احتجاج ختم کر دیا۔

طالبات بولیں: ایک منٹ دیر سے آنے پر دیتی ہیں سزا
احتجاج کر رہی طالبہ کلثوم نے کہاکہ ایک میم ہیں، جو ایک منٹ بھی دیر سے اسکول پہنچنے پر باہر کھڑا کر دیتی ہیں۔ سب سے بدسلوکی کرتی ہیں۔ کہتی ہیں کہ ہم سے بحث مت کرو۔ سب طالبات کو ہراساں کرتی ہیں۔ کئی بار تو والدین کو بھی اسکول میں نہیں آنے دیا جاتا۔
طالبات کا کہنا ہے کہ اسکول میں دیر سے آنے پر جھاڑو’پونچھا لگواتے ہیں۔ کچرا اٹھواتے ہیں۔ ہمارے ہاتھ کی کڑے رکھ لیتے ہیں، واپس بھی نہیں کرتے۔ ادھر ادھر گھومنے پر ٹی سی دینے کی دھمکی دیتے ہیں۔

والدین کہنا ہے کہ ’ میڈم اسکول میں رہیں گی تو بچیوں کو اسکول نہیں بھیجیں گے
مارپیٹ کی خبر عام ہوتے ہی کئی والدین بھی اسکول پہنچ گئے۔ طالبہ کومل کی ماں نے کہاکہ میرے پاس فون آیا کہ اسکول میں مارپیٹ ہو رہی ہے۔ کوئی ٹیچر مار رہی ہے۔ میں فوراً اسکول پہنچی۔ وہاں دیکھا تو بہت بھیڑ لگی ہوئی تھی۔ میری بیٹی کی طبیعت خراب ہو گئی تھی۔ وہ بے ہوش ہو گئی تھی۔ اسے فوراً ہاسپٹل لے کر آئی۔
میڈم کو معطل کر دیا ہے، پھر بھی ہم ان سے پوچھیں گے کہ ہمارے بچوں کو کیوں مارتی ہیں۔ ہم بچوں کے والدین ہیں، ہمیں بھی تو بتا سکتی ہیں نہ کہ کیا مشکل ہے۔ ایسا واقعہ اسکول میں کبھی نہیں ہوا ہے یہ پہلی بار ہوا ہے۔ جب تک وہ میڈم اسکول میں رہیں گی، ہم اپنے بچوں کو اسکول نہیں بھیجیں گے۔

‘‘ بیٹی بچاؤ، بیٹی پڑھاؤ کی حقیقت’’: کانگریس
سابق مرکزی وزیر ارون یادو نے ایکس ہینڈل پر لکھاکہ بی جے پی کے راج میں طالبات، بیٹیوں، خواتین پر ظلم جاری۔ اب معاملہ بھوپال کے سروجنی نائیڈو گورنمنٹ ہائر سکنڈری اسکول تک پہنچ گیا ہے، جس میں دیر سے آنے پر طالبات سے صفائی کرائی جاتی ہے۔ اس مطالبے کو لے کر طالبات کو احتجاج کرنا پڑا۔ کیا یہی ہے بیٹی بچاؤ، بیٹی پڑھاؤ کی حقیقت۔

مدھیہ پردیش یوتھ کانگریس کے ریاستی صدر متیندرا درشن سنگھ نے بھی ویڈیو جاری کیا اور کہاکہ ‘‘بیٹی پڑھاؤ’بیٹی بچاؤ کا نعرہ دینے والی بی جے پی حکومت پہلے ہماری بیٹیوں کو عزت دینا سیکھے۔ اگر بیٹیوں کو عزت نہیں دے پا رہے ہیں، تو میری نظر میں خواتین کے حوالے سے بی جے پی کا معیار دن بدن گرتا جا رہا ہے۔ کچھ طالبات کو سرکاری اسکول کے باہر بیٹھ کر دھرنا دے رہی ہیں۔’’

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button